ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اگرکوئی پارٹی چھوڑتا ہے تو میں کیا کروں : جے ڈی نائک کی دل بدلی پر دیش پانڈے کاکڑک جواب

اگرکوئی پارٹی چھوڑتا ہے تو میں کیا کروں : جے ڈی نائک کی دل بدلی پر دیش پانڈے کاکڑک جواب

Mon, 06 Mar 2017 18:27:54    S.O. News Service

ڈانڈیلی:6/مارچ    (ایس او نیوز)’’ ایک زمانہ تھا اگر کوئی  پارٹی  سے نکلنے یا چھوڑنے کی بات کہتا یا عندیہ بھی دیتا تو اس سے اس کے مسائل اور مشکلات کے متعلق بات چیت کرتے ، پوچھتے اور کہتے کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا تم پارٹی میں ہی رہو۔  ۔۔۔۔ لیکن آج ایسا نہیں ہے، اب حالات بد ل چکے ہیں ، آج اگر کوئی  کہتاہے کہ  میں پارٹی چھوڑکر جاتاہوں تو  اُن کے لئے میں کچھ نہیں کرسکتا ‘‘۔ ان خیالات کا اظہار اترکنڑا ضلع کے نگراں کار وزیر اور کانگریس کے دگج لیڈر آر وی دیش پانڈے نے کیا۔ وہ بھٹکل کے سابق رکن اسمبلی جے ڈی نائک اور یلاپور کے کانگریسی لیڈر پرمود ہیگڈے کے کانگریس کو الوداع کہتے ہوئے بی جے پی میں شامل ہونے پر اخبارنویس کے پوچھے گئے سوال کا جواب دے رہے تھے۔

 ڈانڈیلی کے دورہ پر اخبارنویسوں کے مختلف سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے پرمود ہیگڈے کی تعریف کی اور اُسے اچھا اور بڑا لیڈر قرار دیا، مگر اُن سے سوال پوچھا گیا کہ آپ کے بے حد قریبی ساتھی پرمود ہیگڈے اور جے ڈی نائک آپسےالگ ہوکر بی جے پی میں شامل ہورہے ہیں تو وزیر نے اپنا پلہ جھاڑ لیا۔ دیش پانڈے نے کہا کہ  وہ خود بھی کانگریس سے نکل کر جنتادل میں گئے،  پھر وہاں سے کانگریس میں شامل ہونے کے بعد بھی سیاسی سطح پر مضبوط اور مستحکم ہوئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پارٹی میں لوگ آتے رہتے ہیں اور جاتے رہتے ہیں ان میں کوئی سیاسی استحکام نہیں ہے ، پرمود ہیگڈے کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ وہ  جانے سے پہلے ان کےساتھ بات چیت کی تھی، ان کا کانگریس میں ایک مقام تھا انہیں بہترین مواقع بھی میسر تھے اب چھوڑ کر جارہے ہیں  ، میں یہی کہہ سکتا ہو ں کہ بھگوان ان کا اچھا کرے ۔

 اسی طرح جے ڈی نائک کے متعلق پوچھے گئے سوال کو بھی  دیش پانڈے نے  نظرانداز کرتےہوئے کہاکہ پہلے کوئی پارٹی چھوڑنے کی بات کرتا تو انہیں پارٹی میں باقی رکھنے کی کوشش کرتا تھا، اب ایسا نہیں ہے ۔ مزید کہا کہ  کچھ لوگ سمجھتے ہونگے کہ میں انتخابات کے متعلق سرخراب  کرلونگا، میں کوئی سرخراب کرلینے والانہیں ہوں کیونکہ اب میں اس سطح اور مقام پر پہنچ چکا ہوں کہ مجھے خود پتہ نہیں ہے کہ اگلے  انتخابات میں حصہ لوں گا یا نہیں  ، اگر انتخابات میں امیدوار بنتاہوں ، ہار گیاتو بھی خوش، جیتاتو بھی خوش، میں اپنےایک مقام پرپہنچ چکا ہوں۔ ایک اچھا کارکن  پارٹی چھوڑنے کی بات کہتاہے تو میں اُس سے بات کرسکتاہوں۔ کوئی اگر کہے مجھے ہر حال میں پارٹی چھوڑنا ہی ہے  تو میں کیا کروں۔ جمہوریت میں ایک فرد ہی سب کچھ طئے نہیں کرسکتا۔ سب کچھ ووٹرس طئے کرتے ہیں ، ان کا فیصلہ ہی حتمی فیصلہ ہوتا ہے۔ 


Share: